North Wales Race Equality Network - Criminal Justice
مدد کے ذرائع – فوجداری انصاف – فوجداری عدالتیں

یو۔ کے کا قانونی نظام بہت پیچیدہ نظر آسکتا ہے۔


فوجداری انصاف پروری اور فوجداری مقدمہ کسی فرد پر مجموعی طور پر سماج کے خلاف کوئی جرم کرنے کے لئے ریاست )کراؤن( کے ذریعہ مقدمہ چلائے جانے پر مشتمل ہے۔


انگلینڈ اور ویلس میں قانونی نظام کا بنیادی ڈھانچہ زیادہ تر معمولی اور چھوٹے پیمانے کے جرائم کا معاملہ نبٹنے والی مجسٹریٹ کی عدالت اور ایسی کراؤن یا شاہی عدالت پر مشتمل ہے جو ان تمام فوجداری مقدمات کو نمٹاتی ہے جو عدات میں سماعت کے لئے پیش کی جاتی ہے۔


شاہی عدالت اپیل کے لئے عدالت برائے اپیل میں مقدمے پیش کر سکتی ہے اور اگر ایسے مقدمے میں اصلی قانون میں کچھ اہم تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے انگلینڈ کی عدالت عظمی ہاؤس آف لارڈز میں پیش کیا جاسکتا ہے۔

 

مجسٹریٹ کی عدالت کیا ہے؟ (Magistrates' Court)

زیادہ تر فوجداری مقدمات )تقریبا 97%( مجسٹریٹ کی عدالت کے ذریعہ نمٹائے جاتے ہیں جس میں دو یا تین غیر ماہر مجسٹریٹ )غیر تنخواہ یافتہ عام افراد جنہیں اس عہدے پر مقرر کیا جاتا ہے اور اس کی تربیت دی جاتی ہے( جرمانہ کئے جانے لائق معمولی جرائم، مقدمہ چلائے بغیر نمٹانے لائق دیوانی کارروائیوں کو نمٹاتے ہیں یا پھر وہ پیچیدہ مقدمات کو کراؤن یا کاؤنٹی عدالتوں میں بھیج دیں گے۔ (County Courts).

مجسٹریٹ کی عدالتیں خود مختار مجسٹریٹ کورٹ کمیٹیز یا عدالتی کمیٹیوں کے ذریعہ منظم کی جاتی ہیں جو لارڈ چانسلر کے تئیں بلا واسطہ جوابدہ ہوتی ہیں۔ کچھ مجسٹریٹ کورٹ خاص طور پر بچوں اور 18 سال سے کم عمر کے نوجوان افراد کے متعلق مقدمات نمٹانے کے لئے منظم کئے جاتے ہیں۔ یہ یوتھ کورٹ (Youth Courts) خاص طور پر تربیت یافتہ ججوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور دیگر مجسٹریٹ کورٹ کی طرح ان کے دروازے بھی عوام کے لئے بند ہوتے ہیں۔

 

کراؤن کورٹ (Crown Courts)

زیادہ تر فوجداری کارروائیاں مجسٹریٹ کی عدالتوں میں شروع ہوتی ہیں لیکن ڈاکہ زنی، قتل یا عصمت دری جیسے زیادہ سنگین مقدمات کی صدارت کراؤن کورٹ کرتا ہے۔


کراؤن کورٹ ایسے زیادہ سنگین جرائم کو نمٹاتا ہے جن کی سماعت جج اور جوری کے ذریعہ کی جاتی ہے۔


اوسط طور پر مدعا علیہ کو اپنے مقدمے کی سماعت کے لئے تقریبا تین مہینے انتظار کرنا ہوگا اور کبھی کبھی انتظار کی یہ مدت حراست میں گزارنی ہوگی۔ کسی مقدمے کی سماعت کے لئے اوسط طور پر ڈیڑھ عدالتی دن لگتا ہے۔ عام طور پر ہر سال تقریبا 120,000 مدعا علیہ ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک چوتھائی خود کو بے قصور قرار دیں گے۔


اگر کوئی فرد کسی جرم کا قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے اور اسے یہ لگتا ہے کہ اس پر نادرست طریقے سے الزام لگایا گیا ہے یا وہ اپنی سزا میں تبدیلی چاہتا ہے تو وہ اپیل کر سکتا ہے جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کس عدالت نے اسے مجرم قرار دیا ہے۔
شاہی خدمات استغاثہ ایسے زیادہ تر فوجداری مقدمے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتی ہے جن کی سماعت مجسٹریٹ کورٹ یا کراؤن کورٹ میں کی جاتی ہے۔

مزید معلومات
ہر میجسٹی کی عدالتی خدمت کی ویب سائٹ (Her Majesty's Courts Service) میں آپ عدالتوں کے بارے میں معلومات ، جیسے پتہ، کھلنے کے اوقات، رابطہ کی تفصیلات، وہاں کیسے پہنچیں اور عدالت کی قسم مثلا دیوانی، خاندانی کے متعلق معلومات(، عدالت کے ڈھانچے کا خاکہ اور عدالتی سماعت کے بارے میں معلومات دیکھ سکتے ہیں۔
 
BBC نے کی سائٹ میں آپ عدالتی خدمت کے متعلق مزید معلومات بھی پائیں گے۔