ایذا رسانی
درج ذیل اقتباس کمیشن برائے نسلی مساوات (CRE) سے ماخوذ ہے:
براہ کرم یاد رکھیں کہ یہ قانون کا کوئی واضح گائڈ نہیں ہے۔
نسلی تعلقات ایکٹ 1976 کے تحت نسلی بنا پر ایذا رسانی کو بلا واسطہ امتیاز مانا جاتا ہے، کیونکہ یہ ملازمت میں یا خدمت کی فراہمی کے طریقے میں 'نقصان' کا سبب ہوتا ہے۔
نسلی ضوابط کے تحت نسل یا نسلیاتی یا قومی وجود کی بنا پر ایذا رسانی ایک الگ غیر قانونی ایکٹ ہے۔ ایسا تب واقع ہوتا ہے جب کوئی شخص A، دوسرے شخص B، کو نسل یا نسلی یا قومی وجود کی بنا پر غیر مطلوبہ برتاؤ کا شکار بناتا ہے، جس کا مقصد یا اثر ہوتا ہے:
- B کے وقار کی بے حرمتی؛ یا
- B کے لئے دھمکی آمیز، مخالف، رتبہ گھٹانے والا، ذلت آمیز یا جارحانہ ماحول پیدا کرنا۔
رنگ یا قومیت کی بنا پر ایذا رسانی کو نسلی تعلقات ایکٹ 1976 کے تحت مسلسل طور پر ممکنہ بلا واسطہ امتیاز سمجھا جائے گا۔
ایذا رسانی کی نئی قانونی وضاحت سے قانون کی عکاسی فی الحال عدالت اور ٹریبیونل کے ذریعہ نافذ کئے جانے کی حیثت سے ہوتی ہے، اس لئے ایسا امکان نہیں ہے کہ نسلی ضوابط کے ذریعہ پیش کردہ تبدیلی سے ایسے حالات کی قسم میں اضافہ کیا جائے گا جن کے تحت ایذا رسانی کی شکایات پیش کی جاتی ہیں۔ تاہم، قانون کی دو تبدیلیوں پر غور کیا جانا چاہئے:
ایذا رسانی کی نئی تعریف کے تحت تقابل پیما کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، کیونکہ یہ امتیاز کی قسم نہیں ہے بلکہ یہ ایک علیحدہ، غیر قانونی ایکٹ ہے۔
آیا کوئی سلوک ایذا رسانی کے مساوی ہے، اس کی جانچ معروضی ہوگی – یعنی معقول شخص کی جانچ – ابھی عدالت اور ٹریبیونل کے ذریعہ جانچ کا معیار لاگو کیا جاتا ہے، اس سے اعلی معیار جانچ مقرر کرنے کی وجہ سے اس کی تنقید کی گئی ہے۔
مثال کے طور پر، منیجر کے ذریعہ باقاعدہ طور پر 'لڑکا' کہہ کر بلائے جانے والے کسی ایشیائی منیجر کو یہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے کہ کسی گورے یا سفید فام ملازم کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا۔ لیکن اگر منیجر ہر ایک مرد ملازم کو 'لڑکا' کہہ کر بلاتا ہے تو ایشیائی مرد ملازم کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اس نے ایسے سلوک پر پریشانی محسوس کی ہے۔
مزید تفصیلات کمیشن برائے نسلی مساوات (CRE) سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔